پیر 27 جولائی 2026 - 02:03
کیا یمن کے حوثی واقعی ایران کے پراکسی ہیں؟!

حوزہ / بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اتحاد (Alliance) اور پراکسی (Proxy) ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ دنیا کی بیشتر ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کےلیے دوسرے ممالک حکومتوں یا تحریکوں کی سیاسی مالی اور عسکری مدد کرتی ہیں۔

کاظم سلیم

حوزہ نیوز ایجنسی | بین الاقوامی سیاست میں بعض اصطلاحات وقت کے ساتھ اتنی زیادہ دہرائی جاتی ہیں کہ وہ تحقیق کا موضوع کم اور مسلمہ حقیقت زیادہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔یمن کے حوثیوں کے بارے میں "ایران کا پراکسی" بھی ایک ایسی ہی اصطلاح ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے ذرائع ابلاغ اور سیاسی بیانیوں میں مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعبیر تاریخی حقائق سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں بھی درست ہے؟

کسی بھی سیاسی یا مسلح تحریک کی شناخت کا تعین محض اس بنیاد پر نہیں کیا جاتا کہ اسے بیرونی حمایت حاصل ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی پیدائش کہاں ہوئی اس کے اسباب کیا تھے اس کی سماجی بنیاد کیا ہے اس کی قیادت کہاں سے آتی ہے اور اس کے بنیادی مقاصد کس معاشرے سے وابستہ ہیں۔اگر ان اصولوں کو معیار بنایا جائے تو حوثی تحریک کی جڑیں ایران میں نہیں بلکہ یمن کی اپنی تاریخ سیاست اور سماجی ساخت میں ملتی ہیں۔

تاریخی اعتبار سے شمالی یمن تقریباً ایک ہزار برس تک زیدی ائمہ کے زیر اقتدار رہا۔1962ء کے انقلاب نے اگرچہ اس سیاسی نظام کا خاتمہ کر دیا لیکن زیدی معاشرہ اپنی مذہبی شناخت اور قبائلی ساخت کے ساتھ برقرار رہا۔بعد ازاں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد مرکزی حکومت کی کمزور حکمرانی معاشی عدم مساوات قبائلی تنازعات اور شمالی علاقوں میں سیاسی و مذہبی محرومی کے احساس نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جس سے بعد میں حوثی تحریک ابھری۔ 1990ء کی دہائی میں قائم ہونے والی الشباب المؤمن اسی داخلی عمل کا نتیجہ تھی جبکہ ایران کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات بعد کی پیداوار ہیں نہ کہ اس تحریک کی بنیاد۔

لہذا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ یمن کا بحران ایران اور سعودی عرب کی رقابت سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔ 2011ء کی عرب بہار کے دوران یمن میں بھی لاکھوں لوگ صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔اقتدار کی منتقلی قومی مذاکرات کی ناکامی قبائلی اختلافات اور ریاستی کمزوری نے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔بعد ازاں علاقائی اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت اس بحران میں شریک ہوئیں لیکن یہ کہنا کہ پورا تنازع صرف ایران نے پیدا کیا تاریخی حقائق کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دینا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اتحاد (Alliance) اور پراکسی (Proxy) ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ دنیا کی بیشتر ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کےلیے دوسرے ممالک حکومتوں یا تحریکوں کی سیاسی مالی اور عسکری مدد کرتی ہیں۔اگر صرف بیرونی حمایت ہی کسی تحریک کو پراکسی ثابت کرنے کےلیے کافی ہو تو پھر امریکا کی دہائیوں سے عسکری مالی اور سیاسی معاونت حاصل کرنے والی متعدد حکومتوں کو بھی اسی معیار کے مطابق امریکی پراکسی قرار دینا چاہیے۔لیکن بین الاقوامی سیاست میں ایسا نہیں کیا جاتا کیونکہ کسی تحریک یا حکومت کی شناخت اس کے داخلی وجود اور خودمختار فیصلہ سازی سے متعین ہوتی ہے نہ کہ صرف اس کے بیرونی تعلقات سے۔

یہ حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ اگر حوثی محض ایران کے پراکسی ہوتے تو ان کی سیاسی اور عسکری قوت کا دارومدار بھی مکمل طور پر ایران پر ہونا چاہیے تھا مگر گذشتہ ایک دہائی کی جنگ نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد جدید ترین مغربی اسلحہ، امریکا کی انٹیلی جنس اور لاجسٹک معاونت ہزاروں فضائی حملے اور سخت بحری و فضائی محاصرہ بھی حوثیوں کو ختم نہ کر سکا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی قوت کا سرچشمہ صرف بیرونی حمایت نہیں بلکہ یمن کا قبائلی معاشرہ مقامی سماجی بنیاد نظریاتی وابستگی اور داخلی سیاسی محرکات ہیں۔

اس سے ایران اور حوثیوں کے درمیان موجود سیاسی یا عسکری تعاون کی نفی مقصود نہیں۔یہ تعلق ایک حقیقت ہے لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر پوری تحریک کو صرف "ایران کا پراکسی" قرار دینا ایک ایسا تجزیہ ہے جو یمن کی تاریخ اس کے داخلی عوامل اور بین الاقوامی سیاست کے اصولوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یمن کے بحران کو نعروں اور سیاسی بیانیوں کے بجائے تاریخی تسلسل داخلی محرکات اور علاقائی سیاست کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جو تحریک اپنی قیادت، افرادی قوت، سماجی بنیاد، جنگی میدان اور سیاسی اہداف سب کچھ اپنی سرزمین سے حاصل کرتی ہو اسے صرف ایک بیرونی طاقت کا آلہ کار قرار دینا نہ تاریخ سے انصاف ہے نہ علم سیاست کے مسلمہ اصولوں سے اور نہ ہی یہ ایک سنجیدہ علمی تجزیہ کہلا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha